کفایت شعاری
کفایت شعاری اپنانا بہتیرین طریقہ ہے فضول خرچی کرنے سے نقصنات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اسلام نے زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ دیاہے اس سے ہم گھر اور باہر بہتر طریقے سے اخراجات چلا سکتے ہیں۔آج کے دور میں دوسروں کودکھانےکےلیے ہم فیشن اور دوسرے کامو ں اتنی زیادہ فضول خرچی کرتے ہیں تاکہ سب ہم کو دیکھتے رہ جائیں اس سے ہم دوسروں سے ادھار لیتے ہیں اور اپنے آپ کو مشکل میں ڈال لیتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے جب خرچ کریں تو حد سے نہ بڑھیں اور تنگی نہ کریں درمیان کاراستہ اختار کریں جسکو کفائت شعاری کہتے ہیں۔خوشحالی دو طریقوں میں ہے کمانا اور خرچ کرنا ہے خرچ کرنا کوئی اس میں سمجھدار ہوتاہے خرچ کرنے میں ماسٹر ہوتا ہے وہ اپنی ذندگی میں خوشحال رہے گا۔پورے ہفتے کا حساب بنانا چاہیے کسطرح کہاں خرچ کرنا چاہیے ۔ایک طرف مہنگاہی کا زور ہے دوسری طرف عوام میں بھی فضول خرچی کادور ہےایک ضرورت ذندگی مہنگی ہے عوام اسے سٹور کرنے کے چکر میں لگے ہوتے ہیں ۔انسان خریداری کے معاملے میں اعتدال پسندی مظہرہ کرے ایک انسان کے لیے ضروریات ذندگی اتنی زیادہ نہی ہوتی دووقت کی روٹی ہوتی ہے یاپہننے کےلۓ کپڑا جوتی ہوتی ہے۔لیکن کچھ لوگ سینکڑوں کپڑوں کے جوڑے بنوا لیتے ہیں اور صبح اورپہن لیتے دن کو ایک لباس زیب تن کرلیتےاور شام کواورلباس پہن لیتے جوتوں کے ڈھیر پڑےہوتے اور ساتھ اور خرید رہے ہوتے ہیں اورعالیشان مکان بناۓہوتے ہیں اور بہت سی اور فضول خرچیاں کرتے ہیں۔انسان کی دولت کیسی ہو یہ ایک دن ختم ہوجاتی ہے فیشن سے بہتر ہمیں سادہ ذندگی گزارنی چاہیں یہ رقم جو بچیں گی کل مشکل میں کام آے گی اس سے ہمارہ معاشرہ میں بہتری آۓ گی کفایت شعاری سے ہم لوگ خوشحال ہونگے اور ہمارا ملک ترقی کرے گایوں ہم سے اللہ بھی راضی ہوگا۔
Comments
Post a Comment