اسلام میں تجارت
اسلام میں جسطرح عبادت پر تاکید کی گی ہے اسی طرح رزق حلال کا طریقہ بتایا گیا ہے۔کسی مسلمان کے لۓ جائز نہی کہ وہ دینی معاملات دین کے مطابق اداء کرے اور معاشی کاموں میں من مانی کرے انکے حل کے لۓبیان ہے۔ہر مسلمان اس پر آسانی سے عمل کرسکتاہے ہمارے نبیؐ نے بھی تجارت اپنایا تھا اور صحابہ اکرام بھی تجارت کرتے تھے آج کے دور میں بھی تجارت کو حلال طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔تجارت کا مقصد منافع حاصل کرناہے ہر تاجر کی مرضی ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرے اکثر لوگ بڑے بےخبر ہیں حالانکہ اللہ پاک نے رزق کا وعدہ کیا ہے تاجر لوگ بڑی محنت کرتے ہیں اور اگر وہ اپنا ارادہ بنا لۓ نیک نیتی جائز طریقہ رکھ لۓ انکی دنیاوآخرت بھی سنور جاۓ گی۔لوگوں بتانا چاہیے اسلام حلال طریقے سے تجارت کر نے کی تعلیم دیتا ہے ایسے بیشمار جگہ پر بتا تا ہے محنت کر کے کھاؤ دوسروں کے آگےہاتھ مت پھلاؤ پہلے زمانہ مال ودولت کو زیادہ اہمیت نہی دیتے تھے آج کے زمانہ میں ہر غلط طریقہ سے اسے حاصل کرنا چا ہتے ہیں اگر روپیہ پیسہ نہ ہوتا یہ امیر لوگ ہمیں ذلیل ورسوا کر دیتے اگر کسی کے پاس مال دولت زیادہ ہے تو چاہیے اس میں سے حق دار کا حق نکالنا چاہیے امیر آدمی غریب کو حقیر نہ خیال کرےاور مال سے پاک رکھے۔تجارت کرنے سے پہلے اس کے اصول کا معلوم ہونا چاہیےوہ کیونکہ کاروبار میں بے اصولی کرے گا تو کاروبار میں معاملات خراب ہوجائیں گۓ۔اپنی تمام ترتجارت میں محنت کرنے کے باوجود اللہ پاک پر یقین ہو کہ سب فائدہ اسی کی طرف سے ہے ۔
Comments
Post a Comment