پرہیز اورصحت صفائی
پرہیز کرنا اگر بیماری کی حالت کچھ اشیاء سے کھانے میں استعمال نہ کرناپرہیز ہے۔پرہیز علاج سے بہتر ہے۔بدپرہیزی کا احساس اسوقت ہوتا جب انسان کی بیماری بڑھ جاتی ہے۔حالانکہ تھوڑی سی پرہیز سے بیماری میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔پرہیز سے اختیار کرنے سے اور کم کھانے پینے سے انسان بیماریوں سے بچا رہتا ہےاور اس سے وقت اور پیسے کی بچت رہتی ہے ۔بیماریوں سے بچنے کیلۓ مختلف تدابیر اختیار کرنی چاہیۓ۔جب آپ باتھ میں جائیں تو جسم سے پانی کی صحیح طرح صفائی کریں اور باہر آکر ہاتھ کو صابن سے صحیح طرح دھونا ہےتاکہ بیماریوں سے بچا جاسکے۔اور باہر ٹھیلوں پر چاٹ چنے چاول اور برگر جیسے کھانوں سے پرہیز کیاجاۓ انسے بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہےاور پلاسٹک کے برتنوں سے پرہیز کیا جاۓ یہ جوکچرا پلاسٹک کے ڈھیروں پڑے انسے دوبارہ یہ برتن بن کے آجاتے ہیں۔جسم کی صفائی کا خاص خیال رکھاجاۓ روزانہ نہانے کی عادت بنائی جاۓ اپنا دانتوں کا برش علیحدہ رکھاجاۓ اور دوسروں کاریزر تولیہ وغیرہ استعمال کرنے سے پرہیز کیا جاۓ۔اپنے گھروں میں دروازوں اورکھڑکیوں پر جالیاں لگائیں تانکہ مچھروں اورمکھیوں سے بچا جاسکے اورکوڑادان کو ڈھانپ کر رکھا جاۓ تانکہ مچھر مکھیاں نہ پیدا ہوسکے اور پانی کو بھی ڈھانپ کررکھاجاۓ کسی بھی بیماری کے لۓ خون لگوانا پڑے تو بلڈ بنک سے لے مریضوں کے کپڑوں کو دھوپ سے سکھاۓ اور دونوں طرف استری کریں۔جہاں تک ہوسکے بیماریوں سے بچنا چاہیۓ البتہ بیماریوں کے بچاؤ سے ہی انسان صحت وتوانا رہ سکتا ہےہمیں حکیموں ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹوروں کی رونق بڑھانی ہے یا پرہیز اور صحت صفائی کا خاص خیال رکھیں تو بچا جاسکتا ہے۔
Comments
Post a Comment