ملکی معشیت

 پاکستانی معشیت ہمیشہ بحران کا شکار رہی ہے 1950 میں پاکستانی معشیت بہتری کی طرف گامزن تھی۔کوریا کی جنگ میں کپاس پٹ سن سے خوب زرمبادلہ حاصل کیاہے۔ملکی معشیت میں بہتری 1958 کے بعد آئی اسوقت ترقی پذیر ممالک کی فہرست  پاکستانی معشیت بہیتر تھی۔ 1965 کی جنگ میں پاکستانی معشیت میں خرابی پیداء ہوئی۔1968 تک پاکستانی معشیت میں ترقی کی شرح 7℅ ہوگی1972 کے بعد نئ حکومت اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی اس کااثر مثبت نہ آسکا بڑی صنعت کو قومی تحویل میں لیا جس سے بہت سے تاجر بیرن ممالک چلے گے اورمعشیت پر برا اثر پڑا روپے کی قدر کو کم کرنا پڑا اس سے مہنگاہی کازور بڑا اس سے لوگوں باہر جانے کا موقع  ملا اس سے کچھ بہتری آئی۔1980 کےوقت  معشیت میں بہتری آئی ۔اور 1988 کے حکومتوں نے معشیت کے بہتری کے کوئی خاص اقدام نہی کیے بجلی کی قیمت بڑھی توانائی بھی مہنگی ہوئی اور قرضہ بھی بڑھا۔2008 تک رہنے والی حکومت میں پابندیاں ختم ہوئی معشیت میں بہتری آئی اسکے بعد پھر روپے کی قدر گری اور آج تک روپے کی قدر گرتی ہی جارہی ہے سابقہ حکومت نے برآمدات پر کوئی توجہ نہی دی 2013 میں ہماری برآمدات25ارب ڈالر تھی جو 2017 میں21ارب ڈالر رہ گی۔ اسوقت ہمارے بیرونی قرضے 60ارب ڈالرہے ۔برآمدات بڑھاۓ اور درآمدات کم کریں۔آج کل بازاروں میں ذیادہ تر اشیاء باہر کی پڑی ہوئی ہیں۔باہر کی اشیاء کو بند کیاجاۓ اس سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔اس باہر کی اشیاءنے ملکی معشیت کا ستیاناس کردیا ہے آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں آج ہم اگر ملکی معشیت کو دیکھے تو بیرونی ادائیگیاں ہیں۔جس کے لیے ڈالر ضرورت ہیں ڈالر کی کوئی کمی نہی ملک میں لوگ ڈالر خرید کر اپنے لاکروں میں رکھ رہے ہیں اگر یہی ڈالر کی قیمت فکس کر دی جاۓ کوئی ڈالر نہ خریدے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بیرونی ادائیگیاں بڑھ جاتی ہیں۔بنگلہ دیش اور بھارت کی برآمدات زیادہ اچھی ہیں جنکی ہرسال برآمدات میں اضافہ ہورہاہے جب تک برآمدات میں اضافہ نہی ہوتا اس وقت معشیت میں بہتری نہی آتی۔

Comments

Popular posts from this blog

मूवी देखना

Egg recipe

دانتوں کا علاج